Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
33 - 220
 رہ گیا ہے ، پھیکا رہ گیا کیونکہ کھانے میں عیب نکالنامکروہ و خلافِ سنت ہے، جی چاہے تو کھائیں ورنہ ہاتھ روک لیں ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہنے فرمایا کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کبھی کسی کھانے کو عیب نہیں لگایا (یعنی برا نہیں کہا) اگر خواہش ہوتی تو کھا لیتے اور اگر ناپسند فرماتے تو چھوڑ دیتے۔
(بخاری، کتاب الاطعمۃ، باب ماعاب النبی صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم طعاماً،۳/ ۵۳۱،حدیث:۵۴۰۹ )	 مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : یعنی کھانے پکانے میں کبھی عیب نہ نکالا کہ نمک کم ہے یا زیادہ ، جیسا بعض لوگوں کا عام طریقہ ہے کہ بغیر عیب نکالے کھانا کھاتے ہی نہیں۔  (مراٰۃ المناجیح ، ۶/ ۱۴)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی نعمتوں کو عیب نہیں لگایا جاتا
		حضرتِ سیِّدُنا ابو الحسن علی بن خلْف رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہمذکورہ حدیث کے تحت فرماتے ہیں :یہ عمل حُسنِ ادب میں سے ہے کیونکہ جب بندہ اپنے ناپسندیدہ کھانے کو عیب لگاتا ہے تو وہ بلاشبہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کا رِزْق ٹھکراتا ہے ، اور بعض اوقات انسان اس کھانے کو بھی پسند نہیں کرتا جسے دوسرے پسند کر رہے ہوتے ہیں ، اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی نعمتوں کوعیب نہیں لگایا جاتا ، ان کا تو شکر ادا کرنا لازم ہوتا ہے ۔ (شرح ابن بطال،کتاب الاطعمۃ،باب ماعاب النبی طعاما،۹/ ۴۷۸)
اپنے گھر میں بھی کھانے میں عیب نہ نکالیں
امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت مولاناشاہ احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن لکھتے ہیں :