ہوتو عِیادت کرنا ، خوش ہوتو اس کی حوصلہ افزائی کرنا ، غمگین ہوتو غم خواری کرنا جبکہ نہ’’کرنے کے کاموں‘‘ میں اس کے رہن سہن ، گھریلو سامان ، لباس وغیرہ میں کیڑے نکالنا،دعوت کرے تو کھانے میں عیب نکالنا ،طرح طرح کی چیزوں کی فرمائش کرکے اسے آزمائش میں مبتلا کرنا ۔ اس قسم کے جملے بول کر میزبان کو تکلیف نہ پہنچائیے: ٭آپ کے گھر کا پنکھا بہت آہستہ چلتا ہے ، یہاں تو اے سی بھی نہیں ہے ٭ حیرت ہے آپ کے یہاں فریج نہیں ہے ٭ دیواروں کا پلستر اُکھڑا ہوا ہے ٭ رنگ نہ ہونے کی وجہ سے آپ کا گھر بھوت بنگلہ دکھائی دے رہا ہے ٭کمرے بہت چھوٹے ہیں ٭ صوفے بہت پرانے ہیں ٭ ٹی وی کا سائز بہت چھوٹا ہے کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا، مدنی چینل دیکھنے کا لُطف تو بڑی اسکرین پر آتا ہے وہ کیوں نہیں لے لیتے ٭ ٹوائلٹ(Toilet،اِستنجاخانے) کی صفائی بھی کروائی ہے کبھی ؟ میں اندر گیا تو مارے بدبو کے میرا سر پھٹا جارہا تھا ٭آپ کے گھر میں بچوں کا شور بہت ہوتا ہے ٭آپ بڑے کنجوس لگتے ہیں گھر میں لائٹیں ہوتے ہوئے بھی انہیں روشن نہیں کرتے ۔اس کے علاوہ مختلف فرمائشیں کرنے پر بھی میزبان تکلیف میں آسکتا ہے ،مثلاً ٭کھانے میں اتنی تیز مرچ ! ساتھ میں کچھ میٹھا ہی بنا لیتے ٭ سادہ پانی ہی لے آئے میں تو لَسّی کا شوقین ہوں ذرا ایک گلاس بنوا لیجئے ٭کھانے کے ساتھ سَلاد کھانے کا موڈ ہورہا ہے،لادیجئے۔
خواہش نہ ہوتی تو چھوڑ دیتے
کھانے میں کسی قسم کا عیب نہیں لگانا چاہئے مثلاً یہ نہ کہیں کہ مزیدار نہیں ، کچا