وسلَّم ہے:لَا یَتَنَاجَی اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ فَإِنَّ ذَلِکَ یُؤْذِی الْمُؤْمِنَ وَاللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ یَکْرَہُ أَذَی الْمُؤْمِنِ دو افراد تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں کیونکہ اس سے ایک مومن کو تکلیف ہوگی اور اللّٰہ عَزَّوَجَلََّّ مومن کی تکلیف کو ناپسند فرماتا ہے۔(ترمذی،کتاب الادب،باب ماجاء لا یتناجی ۔۔الخ، ۴؍۳۷۷، حدیث: ۲۸۳۴)
ایک اور حدیثِ پاک میں ارشاد فرمایا گیا:جب تم تین ہو تو دو شخص تیسرے کو چھوڑ کر چپکے چپکے باتیں نہ کریں جب تک مجلس میں بہت سے لوگ نہ آجائیں،یہ اس وجہ سے کہ اس تیسرے کو رَنج پہنچے گا۔ (بخاری،کتاب الاستئذان،باب اذا کانوا اکثر۔۔۔الخ،۴/۱۸۵،حدیث:۶۲۹۰)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :یعنی اگر تین ساتھیوں میں سے دو خُفیہ سرگوشی کریں گے تو تیسرے کو اندیشہ ہوگا کہ کوئی بات میرے خلاف طے کی جائے گی میرے خلاف مشورہ کررہے ہیں،جب تین سے زیادہ آدمی ہوں تو باقی کسی کو یہ خطرہ نہ ہوگا کہ میرے خلاف سازش ہورہی ہے۔خیال رہے کہ یہ ممانعت وہاں ہے جہاں تیسرے کو اپنے متعلق یہ شُبہ ہوسکتا ہو اگر یہ شبہ نہ ہو سکے تو بلاکراہت یہ عمل جائز ہے لہٰذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ حضور صلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم اپنے گھرمیں تشریف فرما تھے کہ فاطمہ زہرا (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا)حاضر ہوئیں حضور (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے انہیں مرحبا کہا اور ان سے کچھ سرگوشی فرمائی۔(مراٰۃ المناجیح ، ۶/ ۵۵۷)