Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
29 - 220
 اور لینے والا اسے زمین سے لے لیتا تھا۔اس کی وجہ یہ ارشاد فرماتے تھے کہ دنیا کی اتنی حیثیت نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کے اوپر نظر آئے۔ (المستطرف، ۱ /۲۷۵)
(حکایت:9)
تھیلی تو ملتی مگر دینے والے کا پتا نہ چلتا
		حضرتِ سیِّدُنا عامر بن عبداللّٰہ بن زُبیر رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ ان لوگوں کے پاس جو سجدے میں ہوتے درہم و دینار سے بھری تھیلیاں لے کر جاتے اور ان کی چَپَّلوں کے پاس ایسے انداز میں رکھ کر آجاتے کہ انہیں تھیلی کا تو پتہ چل جاتا مگر آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکا پتہ نہیں لگ پاتا ۔ کسی نے ان سے عرض کی : آپ خود جانے کے بجائے کسی کے ہاتھ تھیلیاں کیوں نہیں بھجواتے ؟ فرمایا : میں نہیں چاہتا کہ جب کبھی وہ میرے قاصِد کو دیکھا کریں یا مجھ سے ملا کریں تو اِحسان تلے ہونے کی وجہ سے شرمندگی محسوس کریں ۔ 
(مختصر منہاج القاصدین،ص۳۹)
بنادے مجھ کو الہٰی خُلوص کا پیکر
قریب آئے نہ میرے کبھی ریا یاربّ

                          (وسائلِ بخشش،ص۷۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(3)تیسرے فرد کی موجودگی میں سرگوشی کرنا
		جب تیسرا فرد موجود ہوتو ایک دوسرے کے کان میں سَرگوشی نہیںکرنی چاہئے کہ اس سے اسے تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہے ،فرمانِ مصطفیصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ