Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
28 - 220
 کرتے ،چنانچہ امام غزالی علیہ رحمۃ اللّٰہِ الوالی لکھتے ہیں:اُمُّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ اور ام المومنین حضرت سیدتنا اُمِّ سلمہرضی اللّٰہ تعالٰی عنہما  جب فقیر کی طرف کوئی ہدیہ بھیجتیں تو لے جانے والے سے کہتیں کہ اس کے دعائیہ کلمات کو یاد رکھے ، پھر اس جیسے کلمات کے ساتھ جواب دیتیں اور فرماتیں:دعا کے بدلے اس لئے دعا دی ہے تاکہ ہمارا صدقہ محفوظ رہے۔الغرض !صالحین تو دعا کی توقُّع بھی نہیں رکھتے تھے کیونکہ یہ بدلے کے مُشابِہ ہے اور وہ دعا کے بدلے دعا دیا کرتے تھے۔امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ اور آپ کے بیٹے حضرت سیدنا عبداللّٰہ بن عمر  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بھی ایسا ہی کیاکرتے تھے۔(احیاء علوم الدین،کتاب اسرار الزکاۃ،بیان دقائق الآداب۔۔۔الخ،۱/۲۹۲)
(حکایت:7)
چیز واپس کرکے احسان کیا ہے
		 ایک بزرگ نے کسی کی دی ہوئی چیز واپس کردی ،لوگوں نے اس بات کا بُرا مانا تو انہوں نے وضاحت کی: میں نے تو ان پر اِحسان کیا ہے کہ اگر میں ان کا عطیہ قبول کرلیتا تو وہ مجھ پر احسان جتاتے، ان کا مال بھی جاتا اور ثواب بھی۔(کیمیائے سعادت،ص۸۴۳ )
(حکایت:8)
کوئی چیز ہاتھ میں نہ دیتے
		حضرت سیدنا ابوسہل صُعْلُوکیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی سخی لوگوں میں تھے،آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہکوئی چیز کسی کے ہاتھ میں نہیں دیتے تھے بلکہ اسے زمین پر رکھ دیتے تھے