Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
27 - 220
سے بچتے رہو۔(مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں:)یعنی جو فیشن کے لیے ٹخنوں سے نیچا پاجامہ تہبند استعمال کریں جیسے آجکل جاہل چودھریوں کا طریقہ ہے ا ور جو کسی کو کچھ صدقہ و خیرات دے کر ان کو طعنے دیں،اِحسان جتائیں،لوگوں میں انہیں بدنام کریں کہ فلاں آدمی ہمارا دستِ نگر رہ چکا ہے اور جو جھوٹی قسم کھا کر دھوکا دے کر مال فروخت کریں۔(مراۃ المناجیح،۴/۲۴۴)
(حکایت:6)
بھلائی نہیں رہتی 
		حضرت سیدناامام ابنِ سِیرین علیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ المُبین نے ایک شخص کو سنا کہ وہ دوسرے سے کہہ رہا تھا :’’میں نے تیرے ساتھ بھلائی کی اور یہ کیا، وہ کیا۔‘‘ تو آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے اس شخص سے فرمایا:’’خاموش ہو جاؤ، جب نیکی کو شمار کیا جائے تو اس میں کوئی بھلائی نہیں رہتی۔‘‘(الجامع لاحکام القرآن،پ۳،البقرۃ،تحت الآیۃ:۲۶۴،۲/۲۳۶،جزء:۳)
احسان کے بدلے میں دعا بھی طلب نہ کرتیں 
		جو کسی پر احسان کرے اور اس بات کی تمنا کرے کہ سامنے والا احسان کے بوجھ تلے دب کر میرے سامنے جی جی کرتا رہے ،میری آؤ بھگت کرے ، میرا بندۂ بے دام بن کررہے تو ایسی توقعات رکھنے والا غلطی پر ہے ،ہمارے بزرگانِ دین جب کسی پر احسان کرتے تو جواباً دعا کے طلب گار بھی نہیں ہوتے تھے کہ کہیں یہ دعا ان کی نیکی کا بدلہ نہ ہوجائے اور اگر کوئی دعا دے بھی دیتا تو بدلے میں اس کے لئے دعا کردیا