صدقہ دینے والا یہ سمجھے کہ میں نے اس پر اِنعام اور اِحسان کیاجبکہ حق یہ ہے کہ فقیرتو مُحسِن ہے کہ اس نے اس سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا حق قبول کیا جو اس کے لئے طہارت اور جہنم سے نجات کا ذریعہ ہے کہ اگر وہ قبول نہ کرتا تو یہ اس کے سبب گِروی رہتا۔ (احیاء علوم الدین ،کتاب اسرار الزکاۃ،بیان دقائق الآداب۔۔۔الخ،۱/۲۹۱)
نقصان اُٹھانے والے تین افراد
حضرت سیدنا ابوذر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہسے روایت ہے کہ سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا: تین شخص وہ ہیں جن سے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن نہ تو کلام کرے گا نہ نظرِ رحمت فرمائے گا اور نہ انہیں گناہوں سے پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے ۔حضرت سیدنا ابوذر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہنے عرض کی: وہ تو ٹوٹے اور خسارے ہی میں پڑ گئے، یارسول اللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم!وہ کون ہیں؟ فرمایا: تہبند لٹکانے والا،اِحسان جتانے والا اور جھوٹی قسم سے مال بیچنے والا۔
(مسلم،کتاب الایمان، باب بیان غلظ تحریم ۔۔۔الخ، ص۶۷، حدیث:۱۷۱)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :کلام سے مراد محبت کا کلام ہے،دیکھنے سے مراد کرم کا دیکھنا ہے اور پاک فرمانے سے مراد گناہ بخشنا ہے یعنی دوسرے مسلمانوں پر یہ تینوں کرم ہوں گے مگر ان تین قسم کے لوگ ان تینوں عنایتوں سے محروم رہیں گے لہٰذا ان