Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
25 - 220
جنت میں نہیں جائے گا
		خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمینصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمان ہے :  اِحسان جتانے والا ، والدین کا نافرمان اور شراب کا عادی جنت میں نہیں جائے گا ۔    
(نسائی، کتاب الاشربۃ،الروایۃ فی۔۔۔الخ،ص۸۹۵،حدیث: ۵۶۸۳)
		 مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : یعنی یہ لوگ اَوَّلًا جنت میں جانے کے مستحق نہ ہوں گے ۔ خیال رہے کہ گناہ صغیرہ ہمیشہ کرنے سے کبیرہ بن جاتا ہے ۔ شراب خوری خود ہی سخت جرم ہے پھر اس پر ہمیشگی ڈبل جرم ۔ (مراٰۃ المناجیح ، ۶/ ۵۳۰)
اِحسان جتانا کب بُرا ہے؟
		ایک اور مقام پر حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّانلکھتے ہیں:خیال رہے کہ بندے کا بندے کو احسان جتانا اگر طعنہ زنی کے لیے ہو تو بُرا ہے اگر مطیع (یعنی فرمانبردار)کرنے کے لئے ہو تو اچھا،اللّٰہ تعالٰی یا رسولُ اللّٰہصلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم نے بہت جگہ اپنی نعمتوں کے اِحسان جتائے ہیں تاکہ بندے اس کی اِطاعت کریں اس کا احسان مانیں یہ اسی کا کرم ہے،مَنَّان کے ایک معنٰے یہ بھی ہیں یعنی احسان جتانے والا۔ (مراۃ المناجیح ، ۳/۳۳۳)
احسان جتانے کی بنیاد
	امام غزالی علیہ رحمۃ اللّٰہِ الوالیلکھتے ہیں:احسان جتانے کی بنیاد یہ ہے کہ