پرانہیں عمرے کے لئے بھیجا تھا٭ جب پولیس نے تم پر جھوٹا کیس ڈال دیا تھا میں نے تمہاری جان چھڑائی تھی ورنہ آج جیل میں سَڑ رہے ہوتے ٭ تم نے جتنی ترقی کی ہے اس میں میرا ہاتھ ہے ۔
نیکی کر دریا میں ڈال
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِحسان جَتانے والا اس طرح کی باتیں کرکے خوش تو بہت ہوتا ہے لیکن اس کا انجام جان لے اور عبرت پکڑے تو کبھی کسی پر احسان نہ جتائے بلکہ ’’نیکی کر دریا میں ڈال ‘‘کے مقولے پر عمل پیرا ہوجائے ۔پارہ 3سورۂ بقرہ کی آیت 264میں ارشادِ ربانی ہے :
لَا تُبْطِلُوۡا صَدَقٰتِکُمۡ بِالْمَنِّ وَالۡاَذٰیۙ (پ۳، البقرۃ:۲۶۴)
ترجمہ کنزالایمان:اپنے صدقے باطل نہ کر دواحسان رکھ کر اور اِیذا دے کر۔
صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادی لکھتے ہیں :احسان رکھنا تو یہ ہے کہ دینے کے بعد دوسروں کے سامنے اِظہار کریں کہ ہم نے تیرے ساتھ ایسے ایسے سلوک کئے اور اس کو مکدّر (یعنی رنجیدہ وملول) کریں ۔(خزائن العرفان،پ۳،البقرۃ،زیرِ آیت:۲۶۲) تفسیرخازِن میں ہے : اِحسان جتانے کا مطلب یہ ہے کہ کسی پر احسان کرنے کے بعد اسے یوں کہا جائے کہ میں نے تمہیں فلاں فلاں چیز دی ہے اور سارے احسانات گنوا کر ان احسانات کا مزہ کرکرا کردے ۔ (خازن،پ:۳،البقرۃ،تحت الآیۃ: ۲۶۲، ۱/۲۰۶ )