Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
23 - 220
(2) اِحسان جتا کر اِیذا دینا
		میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! فی زمانہ حالات ایسے ہیں کہ اوّل تو کوئی کسی ضرورت مندپر اِحسان کرنے ، اس کی خیرخواہی اور مددکرنے کے لئے تیار نہیں پھر اگر کسی پر احسان کربھی دے توظَرْف اتنا کمزور ہوتاہے کہ اس احسان کے بدلے میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ سامنے والا اس کے احسان کے بوجھ تلے دبا رہے ، اس کی ہر صحیح غلط بات پر ہاں میں ہاں ملائے ، اس کی کسی غلطی کی نشاندہی نہ کرے ، اگر کبھی وہ قابو سے باہر ہونے لگے یا اس کی شان میں کچھ گستاخی کر بیٹھے تو اس پر اِحسان جتانا اپنا حق سمجھا جاتا ہے (مگر جسے اللّٰہ بچائے)، احسان جَتانے کے لئے متعدد جملے بولے جاتے ہیں جو اکثر سامنے والے پر طعنے کے تیر بن کر برستے ہیں اور اس کے کلیجے کو چھلنی کرجاتے ہیں ، مثلاً٭تم پھٹے پرانے کپڑوں میں میرے پاس آئے تھے میں نے تمہیں ترس کھا کر نوکری دی تھی ٭تمہارے پاس دووقت کھانے کو نہیں تھا مجھے ترس آیا تو تمہارے گھر میں مہینے بھر کا راشن ڈلوا یا تھا٭یاد ہے جب تمہارا کاروبار تباہ ہوگیا تھا اور تم فٹ پاتھ پر آگئے تھے میں نے تمہیں قرض میں موٹی رقم فراہم کی تھی تو تم نے دوبارہ کاروبار شروع کیا تھا ٭مالک مکان نے کئی مہینے کا کرایہ نہ دینے کی وجہ سے تمہیں مکان خالی کرنے کا نوٹس دے دیا تھا میں تمہارا کرایہ نہ دیتا تو تم دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہوتے ٭ تمہارا بچہ بیمار تھا دوائی کے لئے پیسے تک نہ تھے میں نے اس کا علاج کرایا تھا ٭تمہاری والدہ کو کتنا اَرمان تھا سفرِ مدینہ کا، میں نے اپنے خرچ