نادانی ہے ، سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : جو اپنے بھائی کی طرف ڈرانے والی نظروں سے گھورے اللّٰہ تعالٰی اسے قیامت کے دن ڈرائے گا۔(شعب الایمان،باب فی طاعۃ اولی الامر،فصل فی ذکر۔۔۔الخ، ۶/۵۰،حدیث: ۷۴۶۸)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :بھائی سے مراد مسلمان بھائی ہے یعنی جوشخص کسی مسلمان کو بلاقصور تیز نظر سے گھور کر ڈرائے ورنہ قصورمند کو گھورنا ڈرانا ضروری ہے۔ (مزید لکھتے ہیں:)اس سے اشارۃً معلوم ہوا کہ مسلمان بھائی کو رحمت کی نظر سے دیکھنا ثواب ہے کہ اللّٰہ تعالٰی اسے عنایت کی نظر سے دیکھے گا۔(مراٰۃ المناجیح،۵/۳۶۹)
آنکھ سے تکلیف پہنچانا جائز نہیں
سرکارِمدینہ منوّرہ،سردارِمکّہ مکرّمہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا:مسلمان کیلئے جائز نہیں کہ دو سرے مسلمان کی طرف آنکھ سے اِس طرح اشارہ کرے جس سے تکلیف پہنچے۔(احیاء علوم الدین،کتاب آداب الالفۃ۔۔۔الخ،الباب الثالث،۲/۲۴۳)ایک مقام پر ارشاد فرمایا:کسی مسلمان کو جائز نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو خوفزدہ کرے۔ (ابوداوٗد،کتاب الادب،باب من یاخذ۔۔۔الخ، ۴/۳۹۱، حدیث:۵۰۰۴)
المدد یا شَہِ اَبرار مدینے والے
قلب سے خوفِ خدا دُور ہوا جاتا ہے
(وسائلِ بخشش،ص۴۳۲)