دیکھ کر بے قرار ہوگیا اور دیگرعقیدت مندوں کے پاس جا کر کہنے لگا : یہ حضرت پر اس قدر زیادتی کرتی ہے اور تم خاموش رہتے ہو ؟ کسی نے کہا : اس کا مہر پانچ سو دینار ہے اور حضرت غَنی نہیں ہیں ۔ و ہ آدمی گیااورپانچ سو دینارلے کرآپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں پیش کردیئے ، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : یہ کیا ہے ؟ عرض کی : اس عورت کا حق مہر ہے جو آپ کے ساتھ بُراسُلوک کرتی ہے ،آپ َرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے مُسکراتے ہوئے فرمایا : اگر میں اس کی بدزبانی اور بدسُلوکی پر صبر نہ کرتا تو کیا تم مجھے جنّت میں دیکھ پاتے ۔ (فیضان سید احمد کبیر رفاعی ، ص۱۹)
تکلیف دینے والے کو تکلیف دینا
اعلیٰ حضرت شاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمٰن سے فتاویٰ رضویہ میں ایک سوال ہوا : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص زید کو تکلیف دیتا رہتا ہے ، اور تکلیف دینے پر آمادہ ہے ، ہرطریق سے تعویذ یاجادو وغیرہا سے ، اور زید اب تک خاموش ہے اور سب تکالیف سہہ رہاہے ، ایک دوشخص سے معلوم ہوا ہے کہ وہ اب جان لینے پرآمادہ ہے ، قصہ یہ ہے کہ زیدکامکان ہے ، وہ یہ کہتاہے کہ مکان مجھ کو مل جائے اور اس کی دلی منشایہی ہے ، زیدکاذاتی مکان ہے بلاوجہ مانگتاہے ، اب زیدمتحمل نہیں ہوسکا ، اب زید بھی یہ چاہتاہے کہ میں ہرطریق سے اس کو تکلیف رساہوں ، شریعت کہاں تک حکم دیتی ہے ؟
جواب ارشاد فرمایا : اِیذارسانی کے اِرادے پراِیذا نہیں دے سکتا ، اپنے