رکھتااوراُن کے تکلیف دینے پر صبر کرتا ہے ،اُس کا ثواب اس مومن سے زیادہ ہے جو لوگوں سے میل جول نہیں رکھتا اوراُن کے تکلیف پہنچا نے پرصبر نہیں کرتا۔ (ابن ماجہ،کتاب الفتن،باب الصبر علی البلائ،۴/۳۷۵،حدیث:۴۰۳۲)
ہے صبر تو خزانۂ فِردوس بھائیو!
عاشق کے لب پہ شکوہ کبھی بھی نہ آسکے
(وسائلِ بخشش،ص۴۱۲)
عرضِ کلیمی اور ارشادِ الٰہی(حکایت:95)
حضرتِ سیِّدُنا وہْب بن مُنَبِّہ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں : حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی : اے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ! لوگوں کی زبانوں کو مجھے تکلیف دینے سے روک دے ! اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا : اگر کسی کے لئے ایسا کرنا ہوتا تو اپنے لئے کرتا ۔
(حلیۃ الاولیاء ، وہب بن منبہ ، ۴/ ۴۵ ، رقم : ۴۶۹۶)
عورت کی بد اَخْلاقی پر صبر (حکایت:96)
حضرت سَیِّداحمد کبیر رفاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کا ایک مریدجو کئی مرتبہ خواب میں آپ کو جنّت میں دیکھ چکا تھا لیکن آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سے اس کاکوئی ذکر نہ کیا تھا ، ایک دن آپ کی خدمت میں حاضر ہواتوآپ کی بیوی کو آپ سے بدسُلوکی کرتے پایا اوردیکھا کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اس زیادتی پر خاموش ہیں ۔ وہ مریدیہ