Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
208 - 220
جلسے کی وجہ سے کافی تاخیر ہوگئی،فجر سے قبل بہت قلیل وقت آرام کرنے کو ملا ،اس لئے بعد نمازِ فجر وظائف سے فارغ ہوکر آنکھوں میں سرمہ استعمال فرمایا اور سونے کا ارادہ کیا،اتنے میں جو لوگ موجود تھے ان کو کوئی صاحب ہٹانے لگے۔اس پر حضرت نے فرمایا:ان لوگوں سے پوچھ لیں،شاید ان کو کوئی حاجت ہو ،اسے ناپسند فرمایا کہ ان کو ہٹایا جائے،گویا ان کی حاجت بَرآری کو اپنے آرام پر ترجیح دی اور یہ معمول ہمیشہ ہی کا تھا کہ جملہ حاضرین کی حاجات کی تکمیل کے بعد ہی سونے اور آرام کرنے کی کوشش کرتے،ہاں خود سے لوگ خیال کرتے ہوئے اٹھ کر چلے جائیں تو دوسری بات ہے۔ ’’ہٹو! حضرت کو آرام کرنے دو،آپ لوگ جائیں حضرت سوئیں گے،آپ لوگ آرام کرنے دیں‘‘اس قسم کے جملوں سے ناراض ہوتے تھے کہ شاید کسی کی دل شکنی ہو جائے یا کسی کی کوئی اہم ضرورت پوری ہونے سے رہ جائے۔ غرض کہ خَلْق کا وہ خیال فرماتے تھے کہ اس زمانے میں اس کا تصوُّر بھی دشوار ہے۔یہ خاص اولیاءُ اللّٰہ کی شان ہے اور اخلاق کی نہایت اعلیٰ مثال بھی۔ (جہانِ مفتیٔ اعظم،ص۹۰۳)
ظُلمًا ایذا دینے کی قسم کھا لی تو کیا کرے؟
	اگر کسی کو ظُلمًا اِیذا دینے کی قَسم کھائی تو اِس قَسَم کا پورا کرنا گناہ ہے۔اِس قسم کے بدلے کَفّارہ دینا ہو گا۔ چُنانچِہ بُخاری شریف میں ہے،رَحمتِ عالم،نُورِ مُجَسَّم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلمکا فرمانِ معظَّم ہے:اگر کوئی شخص اپنے اَہل کے مُتَعلِّق اس کو اَذِیَّت اورضَرَر(یعنی نقصان)پہنچانے کے لئے قسم کھائے پس بخدا اُس کو ضَر ردینا اور