Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
207 - 220
کہ سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا : اے ابو کاہل ! جو لوگوں کو تکلیف پہنچانے سے باز رہا  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ پر حق ہے کہ اسے قبر کی تکلیف سے بچائے ۔
 (المعجم الکبیر ، ۱۸/ ۳۶۱ ، رقم : ۹۲۸)
سانپ لپٹیں نہ میرے لاشے سے
قبر میں کچھ نہ دے سزا یاربّ
(وسائلِ بخشش،ص۸۰)
طلبہ کو زحمت نہ دی(حکایت:93)
	اجمیر شریف تدریس کے زمانے میںصَدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہحضرتِ  علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویکے چھوٹے صاحبزادے جو حضرت سے بہت مشابہ تھے اور آپ ان سے بہت پیار کرتے تھے ان کا انتقال ہوگیا۔صَدرُ الشَّریعہعلیہ الرحمۃکے دولت خانے اور طلبہ کی قیام گاہ کے درمیان تقریباً ایک میل کا فاصلہ تھا۔طلبہ کو اس سانحے کی بہت دیر سے خبر ہوئی ،جب پہنچے تو صَدرُ الشَّریعہعلیہ الرحمۃصاحبزادے کی تدفین سے فارغ ہوچکے تھے۔طلبہ عرض گزار ہوئے:حضور نے ہمیں اطلاع نہ دی۔ارشاد فرمایا:مجھے خیال ہوا کہ گرمی کا وقت ہے،آپ لوگوں کو تکلیف ہوگی لہٰذا دفن کردیا۔(ماہنامہ اشرفیہ ،صدر الشریعہ نمبر،ص۱۳)
کسی کی دل شکنی نہ ہو (حکایت:94)
	مفتیٔ اعظم ہند حضرت علامہ مولانا مصطفی رضا خانعَلَیْہ رَحمَۃُ اللّٰہ المنّان ۳اپریل ۱۹۷۴ء بدھ کو ’’ذَاکر نگر جمشید پور‘‘ میں کسی کے یہاں قیام فرماتھے،رات