Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
206 - 220
حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں :یعنی کوشش کرو کہ تم سے کسی کو نقصان نہ پہنچے ۔ (مراۃ المناجیح،۵/۱۸۱)
	علامہ ابنِ حجر عسقلانی علیہ رحمۃ اللّٰہ  الوالی حدیث پاک کے اس حصے ’’لوگوں کو اپنے شر سے بچائے رکھو‘‘ کے تحت اما م قُرطبی علیہ رحمۃ اللّٰہ  الوالیکے حوالے سے نقل فرماتے ہیں : لو گوں کو اپنے شر سے بچانے پر ثواب اسی صورت میں ملے گا جبکہ نیت اور ارادہ ہواور اگرلو گوں کو اپنے شر سے بچانا بے خیالی اور غفلت میں ہو تو اس صورت میں ثواب حاصل نہیں ہو گا۔( فتح الباری ،کتاب العتق، باب ای الرقاب افضل،۶/۱۲۷ تحت الحدیث:۲۵۱۸)
فقہ اکبر کیا ہے ؟(حکایت:92)
	حضرتِ سیِّدُناجَرِیر بن عثمان رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والد کے ساتھ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اُن کے والد سے حضرتِ سیِّدُناجَرِیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بارے میں پوچھا ،بعد ازاں ارشاد فرمایا : اسے فِقہ اکبر کی تعلیم دو ۔ اُنھوں نے پوچھا : فِقہ اکبر کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا : قناعت اختیار کرنااور کسی کو تکلیف نہ دینا ۔  
(تاریخ الخلفاء ، عمر بن عبد العزیز ، ص ۱۹۵)
قبر کی تکلیف سے بچاؤ کا نسخہ
	حضرتِ سیِّدُنا ابو کاہل قَیْس بن عائذ اَحْمصی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے