Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
204 - 220
اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی عیال ہے ، تو لوگوں میں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کو سب سے پیارا وہ شخص ہے جو اس کے عیال کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے ۔  (المعجم الاوسط ، من اسمہ محمد ، ۴/ ۱۵۳ ، حدیث : ۵۵۴۱)
	 مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں:عیال کے معنی پَروَردَہ (وہ لوگ جنہیں پالا جائے) بہت مناسب ہیں ۔بال بچوں کو عیال اِسی لئے کہتے ہیں کہ وہ صاحب خانہ کے پَروَردَہ ہوتے ہیں ، اللّٰہ تعالٰیسب کا رازِق ہے ، مخلوق اس کی مَرزُوق ہے ، لہٰذا اس کی عیال ہے یعنی پَروَردَہ ۔ تم اس شخص سے بہت خوش ہوتے ہو جو تمہارے غلاموں لونڈیوں بال بچوں سے اچھا سلوک کرے کیونکہ وہ تمہارے پَروردہ ہیں ایسے ہی جو کوئی اللّٰہ کی مخلوق سے بھلائی کرے اللّٰہ اس سے خوش ہوتا ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح ، ۶/۵۸۲)
	حضرتِ سیِّدُنا علامہ عبد الرء وف مَناویعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادی فرماتے ہیں : عیال سے مراد یہ ہے کہ مخلوق اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی محتاج ہے جبکہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ان کی حاجت روائی فرماتا ہے ۔ مزید نقل فرماتے ہیں : مخلوق کو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی عیال کہنا مجازاً ہے ، چونکہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ بندوں کے رِزْق کا ضامِن و کفیل ہے تو مخلوق عیال کی طرح ہوگئی ۔ اچھے برتاؤ میں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی طرف ہدایت دینا ، تعلیم دینا ، مہربانی کرنا ، رحم کرنا ،ان پر خرچ کرنا وغیرہ دینی و دنیاوی بھلائیاں شامل ہیں۔ آقا کو اپنے بندوں پر کسی کا احسان کرنا اچھا لگتا ہے ۔ اس حدیث میں مخلوق کی حاجات پوری کرنے اور علم، مال ، عزت ، جائز