Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
203 - 220
 اتنے میں رب عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا: یہ میری شان کے لائق نہیں کہ میں تجھ جیسے آدمی کو عذاب دوں تجھے یاد ہے !ایک مرتبہ تو اپنے گھر سے باہر کہیں جارہا تھا کہ راستے میں تو نے ایک کانٹا دیکھا اور مسلمان کو اَذیت سے محفوظ رکھنے کی نیت سے وہ کانٹا راستے سے ہٹادیا تھا ، میں نے تیرے اسی عمل کے سبب تجھ پر رحم کیا اور بیشک میں بھلا ئی کرنے والوں کا ثواب ضائع نہیں کرتا ۔
	اس حکایت کو ذکر کرنے کے بعد شیخ اسماعیل حقی رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے تحریر فرمایا:اس سے معلوم ہوا: جب راستے سے تکلیف دہ چیز کو دور کرنا رحمت اور مغفرت کا ذریعہ ہے تو لوگوں سے تکلیف کو دور کرنا، خصوصاً مسلمانوں سے تکلیف دور کرنا، سب سے بڑھ کر اپنے اہل وعیال سے تکلیف کو دور کرنا کل قیامت میں کس قدرنفع مند ہوگا !مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہم سب کو نفع دینے والوں میں شامل فرمائے نہ کہ تکلیف دینے والوں میں ۔(روح البیان ،۲/۲۹۸) 
رضاؔئے خستہ! جوشِ بحرِ عصیاں سے نہ گھبرانا
کبھی تو ہاتھ آجائے گا دامن اُن کی رحمت کا
(حدائقِ بخشش،ص۳۹)
اللّٰہ کا پیار ا کون؟
	سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عالیشان ہے :الْخَلْقُ عِیَالُ اللّٰہِ، فَاَحَبُّ النَّاسِ ِالَی اللَّہِ مَنْ اَحْسَنَ ِالَی عِیَالِہِ مخلوق