Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
202 - 220
راستے کا کانٹا ہٹانے نے بخشش کرا دی(حکایت:90)
	 حضرتِ سَیِّدُنا ابو منصور بن ذَکِیْر علیہ رَحْمَۃُ اللّٰہ القدیر نیک اور پرہیزگار آدمی تھے  ،جب آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکی وفات کا وقت قریب آیا توآپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ بہت زیادہ روئے ۔ پوچھا گیا :حضرت !آپ موت کے وقت کیوں رو رہے ہیں؟ فرمایا:مجھے ایسے راستے پر جانا ہے جس پر میں کبھی نہیں چلا۔آپ کے انتقال کے بعد آپ کے بیٹے نے چوتھے روز اپنے والد مرحوم کو خواب میں دیکھ کر پوچھا: مَا فَعَلَ اللّٰہُ بِکَ یعنی :اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟جواب دیا :اے بیٹے!معاملہ تمہارے گمان سے بھی مشکل رہا، میں سب سے اچھے انصاف کرنے والے کی بارگاہ میں حاضر ہوا، میں نے کئی جھگڑا کرنے والوں کو بحث کرتے دیکھا، مجھے میرے رب عَزَّوَجَلَّنے کہا: اے ابو منصور !تمہاری عمر 70 سال ہوئی آج کیا لے کر آئے ہو؟میں نے عرض کی :اے میرے رب  عَزَّوَجَلَّ!میں نے 30 حج کئے ،اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اِرشاد فرمایا: میں نے وہ قبول نہیں کئے ، میں نے عرض کی: اے میرے رب  عَزَّوَجَلَّ!40 ہزار درہم میں نے اپنے ہاتھ سے صدقہ کئے ،اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اِرشاد فرمایا: میں نے وہ قبول نہیں کئے ، میں نے عرض کی: اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ! 60 سال میں نے دن میں روزہ رکھا اور رات میں عبادت کی،اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے اِرشاد فرمایا: میں نے تیری یہ عبادت بھی قبول نہیں کی ، میں نے عرض کی: اے میرے ربعَزَّوَجَلَّ!میں نے 40 غزوات میں شرکت کی ،اِرشاد ہوا : یہ بھی قبول نہیں ،میں نے کہا :میں ہلا ک ہوا ۔