Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
201 - 220
 سرکارِ مدینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے کسی کے شر سے باز رہنے کواس کے اپنے اوپر صدقہ قرار دیا ہے۔ تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹانے اور اس جیسے دیگر اعمال میں اس بات کی ترغیب ہے کہ نیک اعمال کی کثرت کی جائے اور کسی نیکی کو چھوٹا نہ سمجھا جائے۔ (شرح ابن بطال،کتاب المظالم،باب اماطۃ الاذی،۶/۵۹۱)
جنت میں داخل کیا گیا(حکایت:89)
	 حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہسے روایت ہے کہ سرکارِ دو عالم، نُورِ مجَسَّم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا:ایک شخص درخت کی شاخ پرگزرا جو برسرِراہ پڑی تھی۔ وہ بولا کہ اسے مسلمانوں کے راستے سے ہٹا دوں کہیں انہیں تکلیف نہ دے ،وہ جنت میں داخل کیاگیا۔
(مسلم،کتاب البرو الصلۃ ، باب فضل ازالۃ۔۔۔الخ، ص۱۴۱۰،حدیث :۱۹۱۴)
	 مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :وہ شاخ یا تو خاردار تھی جس کے کانٹے لوگوں کو چبھ جانے کا اندیشہ تھا اور اگر بے خار تھی تو اتنی موٹی تھی جس سے راہ گیر ٹھوکر کھاتے۔اس حدیث سے اشارۃً معلوم ہورہا ہے کہ موذی چیز کو راستہ سے ہٹانے میں مسلمانوں کی خدمت کی نیت کرے نہ کہ کفار کی۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ اس شخص نے ہٹانے کی نیت ہی کی تھی اس نیت پر بخشاگیا نیکی کا ارادہ بھی نیکی ہے اور ممکن ہے کہ اس نے ہٹا بھی دی ہو جس کا یہاں ذکر نہیں آیا۔(مراٰۃ المناجیح،۳/۱۰۱)