Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
200 - 220
اسے جنت میں یا شب معراج میں دیکھا یا نمازِ کُسُوف (یعنی سورج گرہن کے وقت پڑھی جانے والی نماز)میں جب آپ پر جنت پیش کی گئی یا عام حالت میں۔(مراٰۃ المناجیح،۳/۱۰۱)
تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے 
	سرکارِ ابد قرار، شافعِ روزِ شمارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمان ہے: راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا صدقہ ہے ۔(بخاری،کتاب الجہاد،باب من اخذ ۔۔ ۔ الخ ، ۲/۳۰۶،حدیث: ۲۹۸۹)
	 مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :یعنی رستہ سے کانٹا،ہڈی،اینٹ،پتھر،گندگی غرض جس سے کسی مسلمان راہ گیر کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو اس کو ہٹا دینا بھی نیکی ہے جس پر صدقہ کا ثواب اور جوڑ کا شکریہ ہے۔(مراٰۃ المناجیح،۳/۹۷)
	 حضرت سیدنا ابوالحسن علی بن خلف بطالعلیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الرزّاق فرماتے ہیں:اگر یہ سوال کیا جائے کہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا صدقہ کیسے ہوسکتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ صدقہ کا معنی ہے جس پر صدقہ کیا جائے اسے فائدہ پہنچانا۔راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانامسلمان بھائی کی اس تکلیف سے حفاظت کا سبب بنتا ہے تو گویا کہ تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹانے والا اپنے بھائی پر اس تکلیف سے حفاظت کا صدقہ کرتا ہے اس لئے اس عمل پر اسے صدقہ کا ثواب ملتا ہے۔یہ ایسا ہی ہے جیسے کہ