تکلیف دہ درخت کاٹنے پر انعام میں جنت ملی(حکایت:88)
رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: میں نے ایک شخص کو جنت میں مزے سے پھرتے دیکھا اس درخت کی وجہ سے جسے اس نے راستے کے کنارے سے کاٹ دیا تھا جو لوگوں کے لئے باعثِ تکلیف تھا ۔(مسلم،کتاب البروالصلۃ،باب فضل ازالۃ۔۔۔الخ، ص۱۴۱۰،حدیث: ۱۹۱۴)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :یعنی وہ درخت خاردار تھا یا بے خار اس کی جڑ راستہ کے کنارہ پر تھی مگر شاخیں راستہ پر پھیلی ہوئی تھیں اس نے تکلیف دور کرنے کے لئے اسے جڑ سے ہی اُکھیڑ دیا تاکہ آئندہ بھی شاخیں نہ پھیل سکیں اگر یہ درخت اس کی اپنی ملکیت تھا یا خود رَو تھا تب تو اس کے کاٹ دینے اور اس کی لکڑی گھر لے جانے پر کچھ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اور اگرکسی غیر کی ملکیت تھا تو اس نے فقط دفعِ ایذاء(یعنی تکلیف دُور کرنے) کے لئے کاٹ دیا ہوگا اس کی لکڑی پر قبضہ نہ کیا ہو گا۔اس صورت میں اس حدیث سے مسئلہ مُسْتَنبط(اخذ،حاصل)ہوگا کہ مُوذی(اذیت دینے والی) چیز کو ختم کردینا جائز ہے اگرچہ دوسرے کی ملکیت ہو،دیوانہ کتا جو کسی کا پالتو تھا،سرکس والوں کا بھاگا ہوا شیر،سپیروں کا چھوٹا ہوا سانپ ماردیئے جائیں،راستہ میں کھودا ہوا کنواں پاٹ دیا جائے اس میں مالک کی اجازت کی ضرورت نہیں۔حضور انورصلی اللّٰہ علیہ وسلمنے