Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
198 - 220
جومسجدمیں ہو کہ دفن نہ کیا گیا۔(مسلم،کتاب المساجد،باب النہی عن البصاق۔۔۔الخ، ص۲۷۹،حدیث:۵۵۳)
	مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس فرمانِ عالیشان(مجھ پر میری امت کے اچھے برے اعمال پیش کئے گئے) کے تحت تحریر فرماتے ہیں :یعنی تاقیامت میرا جو اُمتی جو اچھا برا عمل کرے گا مجھے سب دکھادیئے گئے۔اس سے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلماپنے ہر اُمتی اور اس کے ہرعمل سے خبردارہیں۔ حضورِانورصلی اللّٰہ علیہ وسلم  کی نگاہیں اندھیرے، اجیالے، کھلی،چھپی،موجود ومعدوم ہرچیزکو دیکھ لیتی ہیں۔جس کی آنکھ میں مَازَاغَ  کاسرمہ ہو اس کی نگاہ ہمارے خواب وخیال سے زیادہ تیز ہے،ہم خواب وخیال میں ہر چیز کو دیکھ لیتے ہیں، حضورصلی اللہ علیہ وسلم نگاہ سے ہرچیز کا مشاہدہ کرلیتے ہیں۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ یہاں اعمال میں دل کے اَعمال بھی داخل ہیں لہٰذا حضور علیہ السلام ہمارے دلوں کی ہرکیفیت سے خبردار ہیں۔’’تکلیف دہ چیز کاراستے سے دورکردینا‘‘کے تحت مفتی صاحب لکھتے ہیں:راستہ سے مسلمانوں کا راستہ مراد ہے،یعنی جس راستہ سے مسلمان گزرتے یاگزرسکتے ہوں وہاں سے کانٹا،اینٹ،پتھر دور کردینا ثواب ہے۔(مراٰۃ المناجیح،۱/۴۳۹)
سرِ عرش پر ہے تِری گزر دلِ فرش پر ہے تِری نظر
ملکوت و ملک میں کوئی شے نہیں وہ جو تجھ پہ عیاں نہیں
(حدائقِ بخشش،ص۱۰۹)