دہ چیز دور کرتا ہے تو اللّٰہعَزَّوَجَلََّّ اس کے بدلے میں اس شخص کے لئے ایک نیکی لکھتا ہے اور اللّٰہعَزَّوَجَلََّّ َّ جس کے لئے ایک نیکی لکھ دے تو اس کے لئے اس نیکی کی وجہ سے جنت واجب فرما دیتا ہے ۔
(مسنداحمد،حدیث أبی الدردائ، ۱۰؍۳۱۵،حدیث: ۲۷۵۴۹)
وہ تو نہایت سَستا سودا بیچ رہے ہیں جنّت کا
ہم مفلِس کیا مول چکائیں اپنا ہاتھ ہی خالی ہے
(حدائقِ بخشش،ص۱۸۶)
بھلائی کا انعام
فرمانِ مصطفی صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے:مَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ کُرْبَۃً فَرَّجَ اللّٰہُ عَنْہُ بِھَاکُرْبَۃً مِّنْ کُرَبِ یَوْمِ الْقِیٰمَۃ جو کسی مسلمان کی تکلیف دُور کرے اللّٰہ تعالٰی اس کی بدولت قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت اس سے دور فرمائے گا۔(مسلم،کتاب البر والصلۃ، باب تحریم الظلم، ص۱۳۹۴، حدیث:۲۵۸۰)(فتاوی رضویہ،۵/۶۶۷)
بارگاہِ رسالت میں پیش کئے جانے والے اعمال
حضرت سیدناابوذررضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ سرورِ کائنات،شاہِ موجودات صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: مجھ پر میری اُمت کے اچھے برے اعمال پیش کئے گئے تو میں نے ان کے اچھے اعمال میں سے تکلیف دہ چیز کاراستے سے دورکردینا پایا اور ان کے برے اعمال میں سے اس تھوک کوپایا