جیسا کرو گے ویسا بھرو گے
حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا:نہ خود کو ضَرر پہنچنے دے، نہ دوسرے کو ضَرر پہنچائے، جو دوسرے کو ضَرر پہنچائے گا اﷲتعالٰیاُس کو ضَرر دے گااور جو دوسرے پر مشقت ڈالے گا اﷲتعالٰیاُس پر مشقت ڈالے گا۔(المستدرک،کتاب البیوع،باب النھی عن المحاقلۃ...إلخ، ۲/۳۶۹، حدیث: ۲۳۹۲)(بہار شریعت، ۲/۶۷۳)
تکلیف دہ چیز سے بچانا ایمان کی ایک شاخ ہے
حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہسے روایت ہے کہ سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا: ایمان کی ستّر سے کچھ زائدشاخیں(یعنی خصلتیں) ہیں ،ان سب میں اعلٰی یہ کہنا ہے: ’’لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ‘‘ (یعنیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں) اور سب سے ادنیٰ تکلیف دہ چیز کا راستہ سے ہٹانا ہے اور حیا ء بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔(شعب الایمان،السابع والسبعون من شعب الایمان، ۷/۵۴۰، حدیث: ۱۱۲۶۹)
ایک نیکی کا بدلہ جنت
حضورنبیّ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشادرحمت بنیادہے:مَنْ زَحْزَحَ عَنْ طَرِیْقِ الْمُسْلِمِیْنَ شَیْئًا یُّؤْذِیْہِمْ کَتَبَ اللَّہُ لَہٗ بِہٖ حَسَنَۃً وَّمَنْ کَتَبَ اللَّہُ لَہٗ عندہ حَسَنَۃًاَوْجَبَ لَہ بِھَا الْجَنَّۃیعنی جو مسلمانوں کے راستے سے کوئی تکلیف