انصاری(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) کی وفات اسی سے ہوئی کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ایک سُوراخ میں پیشاب کیا ،جنّ نے نکل کر آپ کو شہید کر دیا ۔ لوگوں نے اُس سُوراخ سے یہ آواز سُنی: نَحنُ قَتَلْنَا سَیِّدَ الْخَزْرَجِ سَعْدَ بْنَ عُبَادَۃَ وَ رَمَیْنَاہُ بِسَہْمٍ فَلَمْ نُخْطِ فُؤَادَہترجمہ: یعنی ہم نے قبیلہ خزرج کے سردار سعد بن عبادہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) کوشہید کردیا اورہم نے (ایسا) تیرمارا جو ان کے دل سے آر پار ہوگیا۔
( مِراٰۃ ، ۱/۲۶۷، مِرقاۃ،۲/۷۲،اَشِعۃُ اللَّمعات،۱/۲۲۰)
بوسیدہ ہڈیوں سے اِستنجا نہ کیا کریں(حکایت:87)
حضرت ِ سیدنا جابر بن عبداللّٰہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم حضورِ پاک صاحبِ لولاک صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی خدمت اقدس میں حاضر تھے کہ ایک سانپ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور اپنا منہ سرکارِ مدینہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے کان مبارک کے قریب لے جاکر کچھ عرض کی ۔نبی اکرم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا : ’’ٹھیک ہے ۔‘‘ اس کے بعد وہ لوٹ گیا ۔ حضرت جابر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے پیارے آقاصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے اس کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ’’ یہ ایک جن تھا جس نے مجھ سے یہ درخواست کی کہ آپ اپنی امت کو حکم فرمائیے کہ وہ لید اور بوسیدہ ہڈیوں سے استنجاء نہ کیا کریں کیونکہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے ان میں ہمارا رزق رکھا ہے ۔‘‘
(آکام المرجان فی احکام الجان،الباب الحادی عشر فی ان الجن یاکلون ویشربون ،ص۳۲)