Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
193 - 220
 آپ نے فوراً اس کا ہاتھ روک دیا اور فرمایا:’’ اس بے چاری کا قصور نہیں، قصور میرا ہی ہے کہ میں نے بغیر دیکھے غریب پر پاؤں رکھ دیا، اب وہ اپنی جان بچانے کے لئے ڈنک نہ مارتی تو اورکیا کرتی؟‘‘پھرفرمایا،’’ شہد کی مکھی کے ڈنک میں عذاب قبرو جہنم کی تذکیر یعنی یاد ہے ، یہ تو مقامِ شکر ہے کہ مجھے شہد کی مکھی نے کاٹا ،اگر اس کی جگہ کوئی بچھو ہو تا تو میں کیا کرتا؟‘‘  (تعارف امیر اہلسنّت ، ص۴۵)
ڈنک مچھر کا سَہا جاتا نہیں،کیسے میں پھر
قبر میں بچھّو کے ڈنک آہ سہوں گا یاربّ!
(وسائلِ بخشش،ص۸۴)
(78)جِنّا ت کو بھی تکلیف نہ دیجئے
	رَحمت والے آقا ، دو جہاں کے داتا،شافِعِ روزِ جزا،مکّی مَدَنی مصطَفٰے، محبوبِ کبریا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکافرمانِ شفقت نشان ہے: تم میں سے کوئی شخص سُوراخ میں پیشاب نہ کرے۔ (سُنَنِ نَسائی ص۱۴حدیث۳۴)
جِنّ نے شہید کر دیا(حکایت:86)
	مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : جُحْر سے مُراد یا زمین کا سُوراخ ہے یا دیوار کی پَھٹَن(یعنی دراڑ)، چُونکہ اکثر سوراخوں میں زہریلے جانور(یا) چِیونٹیاں وغیرہ کمزور جانور یا جنّات رہتے ہیں ، چِیوُنٹیاں پیشاب یا پانی سے تکلیف پائیں گی یا سانپ وجِنّ نِکل کر ہمیں تکلیف دیں گے، اس لیے وہاں پیشاب کرنا منع فرمایا گیا ۔ چُنانچِہ(حضرتِ سیِّدُنا) سعد ابنِ عُبادَہ