مجھے ۱۴۲۰ھجری( بمطابق1999عیسوی) میںعاشقانِ رسول کے ہمراہ ہندکے سفر کا موقع ملا۔ سلطان الہند خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تعالٰی عَلَیْہ کے مزارِ پر انوار کی زیارت کیلئے امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی امارت میں جو قافلہ روانہ ہوا میں بھی خوش قسمتی سے اس میں شامل تھا۔ رات کم و بیش3:00بجے اجمیرشریف کے اسٹیشن پر اتر کر مطلوبہ مقام تک پہنچنے کیلئے پیدل روانہ ہوئے۔ امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ برہنہ پا تھے، یہ دیکھ کر تقریباً شرکاء نے بھی ادباًاپنے پاؤں سے چپل اتار دئیے۔ چلتے چلتے جب ایک گلی میں داخل ہونے لگے تو دیکھا کہ ’’چند گائیں‘‘ بیٹھی ہوئیں ہیں۔آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے قافلے کو آگے بڑھنے سے روکتے ہوئے ارشاد فرمایاکہ ہمارے اس گلی سے گزرنے سے ’’گائیں‘‘ تشویش میں مبتلا ہونگی ،ان کے کھڑے ہوئے کان اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں ۔ آخر کار مطلوبہ مقام تک پہنچنے کیلئے دوسری گلی میں داخل ہوگئے۔(حقوق العباد کی احتیاطیں ، ص ۱۶)
شہد کی مکھی کا ڈنک(حکایت:85)
عرب امارات کے قیام کے دوران غالباً ۴ ربیع الغوث ۱۴۱۸ھ کو قیام گاہ پر علی الصبح اندھیرے میں شیخِ طریقت امیر اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہکا پاؤں ایک شہد کی مکھی پر پڑگیا۔ اس نے آپ کے پاؤں کے تلوے پر ڈنک مار دیا،جس پر آپ نے بے تاب ہو کر قدم اٹھالیااور وہ شہدکی مکھی رینگنے لگی ۔ایک اسلامی بھائی اس مکھی کو مارنے کیلئے دوا کا اسپرے(Flying Insect Killer) اٹھالائے لیکن