Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
191 - 220
گزرے، جو ایک پرندے کو باندھ کر اُس پر نشانہ بازی کر رہے تھے جبکہ انہوں نے پرندے کے مالِک سے یہ طے کیا ہوا تھا کہ جو تیر(Arrow) نشانے پر نہ لگا وہ اس کا ہو گا۔ جب انہوں نے آپ رضی اللّٰہُ تعالٰی عنہکو آتے دیکھا تو بھاگ گئے۔ آپ رضی اللّٰہُ تعالٰی عنہُ نے دریافت فرمایا: ’’یہ کس نے کیا ہے؟ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ایسا کرنے والے پر لعنت فرمائے، بے شک رسولِ اَکرمصلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کسی ذِی رُوح (یعنی جاندار،Alive)کو تیر اندازی کا نشانہ بنانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘( مسلم،،ص۷۲۰۱،حدیث:۲۶۰۵)
مگر مچھ نے جان بچائی (حکایت:83)
	علامہ عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ النورانی لکھتے ہیں کہ میں نے کم عمر ی کے زمانے میں دریائے نیل میں تیرنا شروع کردیا ، دریاچڑھا ہوا تھا لہٰذامیں جلد ہی تھک گیا اور ڈوبنے لگا ۔ ٹھیک اسی وقت  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ایک مگر مچھ کو بھیج دیا جومیرے پاؤں کے نیچے آٹھہراجس سے میں نے سکون کا سانس لیا اور سمجھا کہ میرے پاؤں کسی چٹان پر ہیں ۔پھر وہ مگر مچھ پانی کی سطح پر آکر تیرنے لگا اور مجھے سہارا دیتا رہا یہاں تک کہ میں کنارے تک پہنچ گیا ۔اس مگر مچھ نے ڈُبکی لگائی اور میری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا ، یہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   کا مجھ پر کرم ہوا کہ میری جان بچ گئی ۔(لطائف المِنَن ص۵۶)
 اجمیری گا ئیں(حکایت:84)
	حیدرآباد(باب الاسلام سندھ) کے اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ