Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
190 - 220
جانور کو چابُک یا آنکڑا نہیں مارتے تھے
	حضرتِ سیِّدُنا عبد الوہاب شَعْرانی قُدِّسَ سرُّہُ السّامی فرماتے ہیں : جس جانور پر بھی مجھے سوار ہونے کا موقع ملے چاہے وہ اونٹ ہو ، گدھا ہو یا کوئی اور جانور میں اس پر بہت شفقت کرتا ہوں اور چابک رکھنا پسند نہیں کرتا ، اس خوف سے کہ کہیں جانور کے سرکشی کرتے وقت مجھ پر نفس کی گرمی حاوی نہ ہوجائے اور میں اسے مارنے لگوں ، یوں ہی جانور کے مالک کی اِجازت سے بھی کسی کو اپنے ساتھ جانور کی پیٹھ پر سوار نہیں کرتا ، ہاں جب اندازہ ہو کہ جانور کو تکلیف نہیں ہوگی (تب کسی کو بٹھالیتا ہوں) ، اسی طرح اس پر سواری کے دوران یا جب وہ لڑکھڑائے اور مجھے زمین پر گرادے اسے گالی نہیں دیتا اور نہ ہی بد دعا دیتا ہوں ۔حضرتِ سیِّدُنا عبد العزیز دِیْرِیْنِی رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہجب جانور پر سوار ہوتے تو لاٹھی ساتھ نہیں رکھتے تھے ، اور نہ ہی آنکڑا مارتے ، اور فرماتے : جب یہ راستہ سے ہٹنے لگے گا تو اپنی آستین کے ذریعے اسے سیدھا کرنا کفایت کر جائے گا ، کیونکہ روز قیامت جیسا میں نے اسے مارا ہوگا ویسا ہی مجھ سے بھی بدلہ لیا جائے گا ، اور میں اس کے جیسا خود کو لاٹھی سے مارنے کی طاقت نہیں رکھتا اور نہ ہی اپنی گدی پر آنکڑا مارنے کی ہمت ہے کہ خون نکلے گا ۔ (المنن الکبری ، الباب الرابع عشر ، ص۵۷۷)
(77)پرندوں کو نشانہ بازی کے لئے استعمال کرنا(حکایت:82)
	حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا   قریش کے بچوں کے پاس سے