Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
188 - 220
اورکوئی ٹِڈی آپ کے کپڑوں میں سایہ دار جگہ پر بیٹھ جاتی توجب تک اُڑنہ جاتی آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اُسی جگہ ٹھہرے رہتے اور فرماتے : اس نے ہم سے سایہ حاصل کیا ہے ۔ اسی طرح جب آستین پر بلی سو جاتی اور نماز کا وقت ہوجاتا تو آستین کو کاٹ دیتے مگر بلی کو نہ جگاتے ، اور نماز سے فَراغت کے بعد آستین دوبارہ سی لیتے ۔ (فیضان سید احمد کبیر رفاعی ، ص ۱۱)
خارش زَدہ کتے کی خبر گیری (حکایت:80)
	ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا احمد کبیر رفاعی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک خارش زَدہ کتے کودیکھا جسے بستی والوں نے باہر نکال دیا تھا ، آپ اسے جنگل میں لے گئے اور اس پرسائبان بنایا ، نیز اسے کھلاتے پلاتے اور ہر طرح سے اس کا خیال رکھتے رہے ، حتّی کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی بھرپور توجُّہ کے نتیجے میں جب وہ تَندُرُسْت ہوگیا تو آپ نے اسے گرم پانی سے نہلاکر اُجلا کردیا ۔    (فیضان سید احمد کبیر رفاعی ، ص ۱۱)
بلی پر رحم رحمت خداوندی کا ذریعہ(حکایت:81)
	حضرتِ سیِّدُناابوبکرشِبْلِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کوخواب میں دیکھا گیا ،آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہنے فرمایا: اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے مجھے اپنے در بارمیں کھڑاکرکے اِرشاد فرمایا : تمہیں معلوم ہے میں نے تمہیں کیوں بخش دیا؟ میں اپنے نیک اعمال شمار کرنے لگا جونجات کا ذریعہ بن سکتے تھے ، تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا : میں نے ان اعمال میں سے کسی عمل کے سبب تیری بخشش نہیں فرمائی ۔ میں نے عرض کی : الٰہی ! پھرتونے