Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
186 - 220
جگہ سے تازہ مچھلیوں کا ایک ٹوکرا خرید لایا ۔ بعدازاں اپنی سواری اور اس کے کجاوے وغیرہ کو دھویا ۔ آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ تشریف لائے اور فرمایا : چلو ! میں بھی تمہاری سواری دیکھ لوں ۔ جب ملاحظہ کیا تو فرمایا : تم اس کے کانوں کے نیچے کا پسینہ دھونا بھول گئے ، تم نے عمر کی خواہش پوری کرنے کیلئے اس جانور کو تکلیف میں ڈالا ، اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی قسم ! اب عمر تمہارے ٹوکرے کی ایک مچھلی بھی نہیں چکھے گا۔  
  (کنز العمال ، فضائل الصحابۃ ، جزء ۱۲ ، ۶/ ۲۸۷ ، حدیث : ۳۵۹۶۶)
(75)جانورلڑوانے سے منع فرمایا
	حضرت سیدنا عبداللّٰہبن عباس  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہماکا بیان ہے کہ  سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے جانور لڑوانے سے منع فرمایا ۔(ترمذی،کتاب الجھاد،باب ما جاء فی کراھیۃ 
التحریش،۳/۲۷۱، حدیث: ۱۷۱۴)
	مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :اللّٰہ تعالٰی رحم فرمائے،آج مسلمانوں میں مرغ لڑانا،کتے لڑانا،اونٹ،بیل لڑانے کا بہت شوق ہے یہ حرام سخت حرام ہے کہ اس میں بلا وجہ جانوروں کو ایذاء رسانی ہے،اپنا وقت ضائع کرنا۔بعض جگہ مال کی شرط پر جانور لڑائے جاتے ہیں یہ جوا بھی ہے حرام دَرحرام ہے۔جب جانوروں کو لڑانا حرام ہے تو انسان کو لڑانا سخت حرام ہے۔(مراٰۃ المناجیح،۵/۶۵۹)