Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
185 - 220
کی جان لینی پڑے تو اُس کو آسان سے آسان طریقے پر مارا جائے خوامخواہ اُس کو بار بار زندہ کُچلتے رہنے یاایک وار میں مار سکتے ہوں پھر بھی زخم کھا کر پڑے ہوئے پر بِلاضَرورت ضَربیں لگاتے رہنے یا اُس کے بدن کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اُس کو تڑپا نے وغیرہ سے گُریز کیا جائے۔ اکثر بچّے نادانی کے سبب چیونٹیوں کو کچلتے رہتے ہیں اُن کو اِس سے روکا جائے ۔ چیونٹی بہت کمزور ہوتی ہے چٹکی میں اٹھانے یا ہاتھ یا جھاڑو سے ہٹانے سے عُمُوماً زخمی ہوجاتی ہے، موقع کی مُناسَبَت سے اس پر پھونک مار کر بھی کام چلایاجا سکتا ہے۔(ابلق گھوڑے سوار،ص۱۵ تا ۲۱)
اُونٹ والے کو مار کیوں پڑی ؟(حکایت:77)
	 حضرتِ سیِّدُنا مسیَّب بن دارِم رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں : ایک بار میں نے امیر المومنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کو دیکھا کہ ایک اونٹ والے کو مار رہے ہیں اور فرمارہے ہیں: تم اپنے اونٹ پر اتنا بوجھ کیوں لادتے ہو جسے وہ اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا ۔(الامر بالمعروف والنھی عن المنکر ، ص۴۵)
ایک مچھلی بھی نہ چکھی(حکایت:78)
	حضرتِ سیِّدُنا اسلم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن امیر المومنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے ارشاد فرمایا : میرا تازہ مچھلی کھانے کا دل کر رہا ہے ۔ یہ سن کر آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا غلام ’’یَرْفا‘‘ چار میل دور کسی