کتاب الذبائح،۲/۳۵۰)(بہار شریعت ،۳/۳۱۵)اس طرح ذبح کرے کہ چاروں رگیں کٹ جائیں یا کم سے کم تین رگیں کٹ جائیں۔ اس سے زیادہ نہ کاٹیں کہ چھری گردن کے مہرہ تک پہنچ جائے کہ یہ بے وجہ کی تکلیف ہے پھر جب تک جانور ٹھنڈا نہ ہو جائے یعنی جب تک اس کی روح بالکل نہ نکل جائے اس کے نہ پاؤں وغیرہ کاٹیں نہ کھال اُتاریں ۔ (البحرالرائق،کتاب الصلاۃ،باب مایفسد الصلاۃ...إلخ،۲/۵۷)
(بہار شریعت ،۳/۳۵۳)
جانوروں پر رحم کی اپیل
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دامت برکاتہم العالیہ اپنے رسالے ’’ابلق گھوڑے سوار‘‘ کے صفحہ15پر لکھتے ہیں:گائے وغیرہ کوگرانے سے پہلے ہی قبلے کا تَعَیُّن کر لیا جائے ،لِٹانے کے بعد بِالخصوص پتھریلی زمین پر گھسیٹ کر قبلہ رُخ کرنا بے زَبا ن جانورکیلئے سخت اذیَّت کا باعث ہے ۔ ذَبْح کرنے میں اتنا نہ کاٹیں کہ چھری گردن کے مُہرے(ہڈی) تک پہنچ جائے کہ یہ بے وجہ کی تکلیف ہے پھر جب تک جانور مکمَّل طور پر ٹھنڈا نہ ہو جائے نہ اس کے پاؤں کاٹیں نہ کھال اُتاریں، ذَبْح کر لینے کے بعد جب تک رُوح نہ نکل جائے چھری کٹے ہوئے گلے پر مَس(TOUCH) کریں نہ ہی ہاتھ۔بعض قصّاب جلد ’’ٹھنڈی ‘‘ کرنے کیلئے ذَبْح کے بعد تڑپتی گائے کی گردن کی زندہ کھال اُدھیڑ کر چُھری گھونپ کر دل کی رگیں کاٹتے ہیں ، اِسی طرح بکرے کوذَبْح کرنے کے فوراً بعد