القوی اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیۡ نَعِیۡمٍ ﴿ۙ۲۲﴾ (ترجَمۂ کنزالایمان :بے شک نکوکار ضرور چین میں ہیں (پ۳۰، المطففین ۲۲)کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اَلَّذِیْنَ لَایُؤْذُوْنَ الذَّرّ یعنی نیک بندے وہ ہیں جو چیونٹیوں کو بھی اَذِیَّت نہ دیں۔ (تفسیر حسن بصری ،۵ /۲۶۴ ) (غصے کا علاج،ص۲۷)
چیونٹیوں کے لئے روٹی رکھا کرتے
صحابی ٔ رسول حضرتِ سیِّدُنا ابو طَریف عَدی بن حاتِم طائی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ چیونٹیوں کے لئے روٹی چورا کر کے رکھا کرتے تھے ، اور فرماتے تھے : یہ بھی ہماری پڑوسی ہیں ، اِن کا بھی حق ہے ۔
(شعب الایمان ، الباب الخامس والسبعون ، ۷/ ۴۸۳ ، رقم :۷۹۔ ۱۱۰۷۸)
بے تاب چیونٹی(حکایت:74)
امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ انسان تو انسان بِلا وجہ جانوروں بلکہ چیونٹی تک کو بھی تکلیف دینا گوارا نہیں کرتے حالانکہ عوامُ النّاس کی نَظَر میں اس کی کوئی وُقْعَت نہیں۔ ایک مرتبہ آپ دامت برکاتہم العالیہ کی خِدمت میں پیش کئے گئے کیلوں کے ساتھ اتفاقاً ایک چھلکا بھی آگیا جس پر ایک چیونٹی بڑی بے تابی سے پِھر رہی تھی۔ آپ فوراً معاملہ سمجھ گئے لہٰذا فرمایا کہ دیکھو یہ چیونٹی اپنے قبیلے سے بِچھڑ گئی ہے۔کیونکہ چیونٹی ہمیشہ اپنے قبیلے کے ساتھ رہتی ہے اس لئے بے تاب ہے ۔برائے مہربانی کوئی اسلامی بھائی اس چِھلکے کو چیونٹی سمیت لے جائیں اور واپس وہیں جا کر رکھ آئیں