Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
179 - 220
چڑیا کو تکلیف دینے کا انجام(حکایت:73)
	 حضرتِ علّامہ کمالُ الدّین دَمیری علیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ القوی نَقل کرتے ہیں: ’’زَمَخْشَری‘‘ (جو کہ مُعتزِلی فرقے کا ایک مشہور عالم گزرا ہے اُس)کی ایک ٹانگ کٹی ہوئی تھی ، لوگوں کے پوچھنے پر اُس نے انکِشاف کیا کہ یہ میری ماں کی بد دُعا کا نتیجہ ہے، قِصّہ یوں ہوا کہ میں نے بچپن میں ایک چِڑیا پکڑی اور اُس کی ٹانگ میں ڈوری باندھ دی ، اِتِّفاق سے وہ میرے ہاتھ سے چھوٹ کر اُڑتے اُڑتے ایک دیوار کی دراڑ میںگُھس گئی مگرڈوری باہَر ہی لٹک رہی تھی،میں نے ڈوری پکڑ کرزور سے کھینچی تو چِڑیا پھڑکتی ہوئی باہَر نکل پڑی، مگربے چاری کی ٹانگ ڈوری سے کٹ چکی تھی، میری ماںنے یہ درد ناک منظر دیکھا تو صدمے سے تڑپ اُٹھی اور اُس کے منہ سے میرے لئے یہ بددُعا نکل گئی : ’’جس طرح تو نے اِس بے زَبان کی ٹانگ کاٹ ڈالی، اللہ تَعَالٰی  تیری ٹانگ کاٹے ۔‘‘بات آئی گئی ہو گئی،کچھ عرصے کے بعد تحصیلِ علم کیلئے میں نے ’’ بُخارا‘‘ کا سفر اختیار کیا، اِثنائے راہ سُواری سے گر پڑا، ٹانگ پر شدید چوٹ لگی،’’ بُخارا‘‘ پَہنچ کر کافی علاج کیا مگر تکلیف نہ گئی بالآخِر ٹانگ کٹوانی پڑی۔ (اوریوں ماںکی بددعا رنگ لائی) (حیاۃُ الحیوان الکبرٰی ،۲ / ۱۶۳) 
نیک بندے چیونٹیوں کو بھی اِیذا نہیں دیتے
	 اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کے نیک بندے کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ چیونٹیوں تک کو اِیذا دینے سے گُریز کرتا ہے۔ چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا خواجہ حسن بصری علیہ رحمۃُ اللّٰہِ