اس کے بچے اسے لوٹا دو(حکایت:72)
حضرت سیدنا عبداللّٰہبن مسعودرضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا بیان ہے کہ ہم سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے ساتھ ایک سفر میں تھے۔آپ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے تو ہم نے ایک چڑیا دیکھی جس کے دو بچے تھے،ہم نے انہیں پکڑلیا،چڑیا آئی اور پھڑپھڑانے لگی۔ سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمتشریف لائے تودریافت فرمایا:کس نے اسے اس کے بچوں کے معاملے میں تکلیف پہنچائی ہے؟اس کے بچے اسے لوٹادو۔(ابوداؤد،۳/۷۵ حدیث:۲۶۷۵)
ہاں یہیں کرتی ہیں چڑیاں فریاد ہاں یہیں چاہتی ہے ہرنی داد
اِسی در پرشُترانِ ناشاد گلۂ رنج و عنا کرتے ہیں
(حدائقِ بخشش،ص۱۱۳)
چڑیا کی شکایت
سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا:جوشخص کسی چڑیا کو بلاضرورت قتل کریگا تو وہ چڑیا قیامت کے دن اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہوئے عرض کرے گی:اے میرے رب!فلاں نے مجھے بِلاضرورت قتل کیا تھا کسی نفع کے لئے قتل نہیں کیا۔(نسائی ،۳/۷۳ حدیث:۴۵۳۵)