جانوروں کو بھی تکلیف نہ دیجئے
جس طرح ہم پر انسانوں کے حقوق ہوتے ہیں اسی طرح جانوروں کے بھی ہم پر حقوق ہیں ، لہٰذا جانوروں کو بلاوجہ شرعی تکلیف پہنچانا جائز نہیں ۔حضرتِ سیِّدُنا احنف بن قَیس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں : ہم وفْد کی صورت میں ایک بار بارگاہِ فاروقی میں عظیم فتح کی خوشخبری لے کر حاضر ہوئے ۔ آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے استفسار فرمایا : تم لوگ کہاں ٹھہرے ہو ؟ میں نے جگہ کے بارے میں بتایا تو آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ہمارے ساتھ اس جگہ تک آئے اور ہر سواری کو غور سے دیکھتے رہے ، پھر فرمایا : تم لوگ اِن سواریوں کے معاملے میں اللّٰہعَزَّوَجَلَّسے نہیں ڈرتے ؟ تم نہیں جانتے کہ ان جانوروں کا بھی تم پر حق ہے!(حکایت:71) (تاریخ دمشق ، ۴۴/ ۲۹۱ملتقطاً)
(73)جانوروں کو کرسی نہ بنالو
سرکارِ ابد قرار، شافعِ روزِ شمارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکافرمانِ عالیشان ہے:ان جانوروں پر اچھی طرح سواری کرو اور( جب ضرورت نہ ہوتو) ان سے اُترجاؤ، راستوں اور بازاروں میں گفتگو کرنے کے لئے انہیںکرسی نہ بنالوکیونکہ کئی سواری کے جانور اپنے سوار سے بہتر اوراس سے زیادہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرنے والے ہوتے ہیں۔ (جامع الاحادیث،۱/۴۰۴، حدیث:۲۷۶۵)