اس کی کھال تک پہنچ جائے،اس کے لیے بہتر ہے اس سے کہ قَبْرپر بیٹھے۔(مسلم،ص۴۸۳،حدیث: ۹۷۱)
قَبْر کے قریب گندگی کرنا
قَبْر پررہنے کامکان بنانا،یاقَبْرپر بیٹھنا، یاسونا، یا اس پر بَول وبَراز (یعنی پیشاب پاخانہ)کرنا یہ سب اُموراَشَدّ (یعنی سخت ترین )مَکرُوہ قریب بحَرام ہیں۔ (فتاوٰی رضویہ ،۹/۴۳۶)سیِّدِ عالم صلیَّ اللہُ تعالٰی عَلیہ واٰلہ وسلَّمفرماتے ہیں :مُردے کو قَبْر میں بھی اس بات سے اِیذا ہوتی ہے جس سے گھر میں اسے اَذِیَّت ہوتی۔(فِردَوس الاخبار،۱/۱۲۰،حدیث:۷۴۹)
ردالمحتار میں ہے:قبرستان میں پیشاب کرنے کو نہ بیٹھے :لِاَنَّ الْمَیِّتَ یَتَاَذَّی بِمَا یَتَاَذَّی بِہِ الْحَیُّ اس لئے کہ جس چیز سے زندو ں کو اَذیت ہوتی ہے اس سے مرُدے بھی اِیذا پاتے ہیں۔ (ردالمحتار، ۱/۶۱۲)
(72)بد اعمالیوں سے تکلیف نہ دو
سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عبرت نشان ہے : ہر پیر اور جمعرات کو اعمال اللّٰہعَزَّوَجَلَّکے حضور پیش ہوتے ہیں ، اور ہر جمعہ کو انبیام ئے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اور والدین کے سامنے پیش ہوتے ہیں ، وہ نیکیوں پر خوش ہوتے ہیں اور انکے چہروں کی چمک دمک بڑھ جاتی ہے ،لہٰذا اللّٰہعَزَّوَجَلَّسے ڈرو ! اور اپنے فوت شدگان کو اپنی بداعمالیوں سے تکلیف نہ دو ۔
(نوادر الاصول ، الاصل التاسع والستون والمأۃ ، جزء ۱ ، ص ۶۷۱ ، حدیث : ۹۲۵)