دور ہو !اے شخص میرے پاس سے!)اور مجھے اِیذا نہ دے۔(فتاوٰی رضویہ،۹/۴۵۲ ، شَرْحُ الصُّدُور،ص۳۰۱)
اٹھ تُو نے مجھے اِیذا دی!(حکایت:70)
حضرتِ سَیِّدُنَا ابنِ مِینا تابِعی عَلیہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِ ی فرماتے ہیں:میں قبرِستان میں گیا ، دورَکعات پڑھ کرایک قَبْر پر لیٹا رہا۔ خدا کی قسم!میں خوب جاگ رہاتھا کہ سُنا، صاحبِ قبر کہتا ہے :قُمْ فَقَدْ اٰذَیْتَنِی اُٹھ کہ تونے مجھے ایذا دی ۔ (دَلَائِلُ النُّبُوَّۃِ لِلْبَیْہَقِی،۷/ ۴۰)
قبر پر پاؤں رکھنا حرام ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ قَبْرپرپاؤں رکھنے یاسونے سے قَبْر والے کو اِیذا ہوتی ہے اور بلا اجازتِ شرعی کسی مسلمان کو ایذا دینا حرام اور جہنَّم میں لے جانے والاکام ہے۔لہٰذا کسی مسلمان کی قَبْر پر پاؤں نہ رکھے، نہ کسی قَبْر کو رَوندے اور نہ کسی قَبْر پر بیٹھے اور نہ ہی ٹیک لگائے کیونکہ اس سے نبیِّ کریم ، رَء ُوْفٌ رَّحیم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِوَ التَّسْلِیم نے منع فرمایا ہے:دو فَرامینِ مصطَفٰیصلی اللّٰہُ تعالٰی عَلیہ واٰلہ وسلَّم:(۱)مجھے آگ کی چِنگاری پر یا تلوار پر چلنا یا میرا پاؤں جُوتے میں سِی دیا جانا زیادہ پسند ہے اِس سے کہ میں کسی مسلمان کی قَبْرپر چلوں۔(اِبن ماجہ،۲ /۲۵۰، حدیث:۱۵۶۸) (۲)ایک آدمی کو آگ کی چنِگاری پر بیٹھارہنا یہاں تک کہ وہ اس کے کپڑے کو جَلا کر