Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
174 - 220
جن چیزوں سے مومن زندگی میں راحت پاتا تھا انہی چیزوں سے بعدموت بھی راحت پاتاہے،لہٰذا وہاں تلاوت کرنا،خوشبو دار چیزیں رکھنا وغیرہ بہترہے۔(مراٰۃ المناجیح،۲/۴۹۶)
جوتوں کی آواز سے تکلیف ہوتی ہے 
	اَبُوالْاِخلاص حضرت علامہ مولاناحَسن بن عمّار شُرُنْبُلَالِیْ حَنَفیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی مَراقِی الْفَلاح میں لکھتے ہیں : مجھ کو میرے استاذعلامہ محمدبن احمد حنفی رحمہ اﷲتعالٰینے خبردی کہ جوتے کی پہچل (یعنی آواز)سے مُردے کو اِیذا ہوتی ہے ۔(مراقی الفلاح ،فصل فی زیارۃ القبور،ص ۱۵۲)
قَبْرپر بیٹھنے والے کو تَنبِیہ(حکایت:68) 
    عُمارَہ بن حَزْم رضی اﷲتعالٰی عنہ فرماتے ہیں:حُضُورِ اقدس صَلیَّ اللّٰہُ تعالٰی عَلیہ واٰلہٖ وسلَّمنے مجھے ایک قَبْر پر بیٹھے دیکھا، فرمایا :اوقَبْر والے!قَبْر سے اُتر آ، نہ تو صاحِبِ قَبْر کواِیذا دے نہ وہ تجھے۔(فتاوٰی رضویہ،۹/۴۳۴ ) اِس مَدَنی حکایت سے وہ لوگ عبرت حاصل کریں جوجنازے کے ساتھ قبرِستان جاتے ہیں اور تدفین کے دَوران مَعَاذَاللّٰہ بِلا تکلُّف قبروں پر بیٹھ جاتے ہیں۔
قَبر پر پاؤں رکھا تو آواز آئی(حکایت:69)
	حضرت ِسیِّدُناقاسم بنمُخَیْمَررَحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ کہتے ہیں:کسی شخص نے ایک قبر پر پاؤں رکھا، قبر سے آواز آئی:اِلَیْکَ عَنِّیْ وَلَاتُؤْذِنِی اپنی طرف ہٹ ،(یعنی