احمد عینیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الغَنِیحضرت سیدنا امام نووی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویسے نقل فرماتے ہیں: حدیث کے معنی یہ ہیں کہ لوگ مُردے پر روتے ہیں توا ن کا رونا سن کر مردے کو صدمہ ہوتا ہے اور ان کے لئے اس کا دل کڑھتاہے۔اس پردلیل یہ حدیث ِ پاک ہے کہ ایک خاتون اپنے بیٹے پر رو رہی تھیں، سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے انھیں منع کیا اورارشاد فرمایا:اِنَّ اَحدَکُمْ اِذَابَکٰی اِسْتَعْبَرَلَہٗ صُوَیْحَبُہٗ فَیَاعِبَادَاﷲِ لَاتُعَذِّبُوْا اِخْوَانَکُمْجب تم میں کوئی روتا ہے تو اس کے رونے پر مردے کے بھی آنسو نکل آتے ہیں تو ا ے خدا کے بندو!اپنے بھائیوں کو تکلیف نہ دو۔
(عمدۃ القاری ،باب قول النبی یعذب المیت۔۔۔الخ،۶/۱۰۹، تحت الحدیث:۱۲۸۸)
زیارتِ قبر کا محتاط طریقہ
زیارتِ قبر کا طریقہ یہ ہے کہ پائنتی کی جانب (یعنی قدموں کی طرف)سے جا کر میّت کے منہ کے سامنے کھڑا ہو، سرہانے سے نہ آئے کہ میّت کے لیے باعثِ تکلیف ہے یعنی میّت کو گردن پھیر کر دیکھنا پڑے گا کہ کون آتا ہے ۔ (ردالمحتار،کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ الجنازۃ،مطلب فی زیارۃ القبور، ۳/۱۷۹)
(بہار شریعت،۱/۸۰۹)
مرنے والے کو راحت پہنچائیے
ابنِ ابی شیبہ نے حضرت ابنِ مسعود( رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ) سے روایت کی کہ مؤمن کو بعدموت ایذاء دینا ایسا ہی ہے جیسے اسے زندگی میں ستانا۔ مرقات میں ہے کہ