Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
172 - 220
مرنے والے کے پیٹ پر بھاری چیز رکھنے میں احتیاط
	اس کے پیٹ پر لوہا یا گیلی مٹی یا اور کوئی بھاری چیز رکھ دیں کہ پیٹ پھول نہ جائے۔(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ،الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، الفصل الأول،۱/۱۵۷)مگر ضرورت سے زیادہ وزنی نہ ہو کہ باعثِ تکلیف ہے۔ (بہار شریعت،۱/۸۰۹)
گھروالوں کے رونے سے میت کو تکلیف ہوتی ہے
	 سرکارِ دو عالم،نُورِمجَسَّمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے:إِنَّ الْمَیِّتَ یُعَذَّبُ بِبُکَاء ِ أَہْلِہِ عَلَیْہ یعنی گھر والوں کے رونے کی وجہ سے مُردے پر عذاب کیا جاتا ہے۔
(بخاری،کتاب الجنائز،باب البکاء عند المریض،۱/۴۴۱،حدیث:۱۳۰۴)
	 مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :مَیِّت سے مراد وہ ہے جس کی جان نکل رہی ہو اور عذاب سے مراد تکلیف ہے یعنی اگر جان نکلتے وقت رونے والوں کا شور مچ جائے تو اس شور سے مرنے والے کو تکلیف ہوتی ہے،بلکہ بیمار کے پاس بھی شور نہ کرناچاہئے کہ اس سے بیمارکو اِیذا پہنچتی ہے لہٰذا حدیث پر یہ اِعتراض نہیں کہ کسی کا گناہ میت پر کیوں پڑتاہے۔(مراٰۃ المناجیح،۲/۵۰۲)
	اس حدیثِ پاک کی شرح کرتے ہوئے حضرت علامہ مولانا ابومحمد محمود بن