Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
171 - 220
کرنے کا ارادہ کیا اور کام تقسیم کرلیا،کسی نے اپنے ذمے ذَبح کا کام لیا تو کسی نے کھال اُدھیڑنے کا نیز کوئی پکانے کا ذمے دار ہوگیا۔سرکارِ نامدار صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:لکڑیاں جمع کرنا میرے ذمے ہے۔صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَان عرض گزار ہوئے:آقا!یہ بھی ہم ہی کرلیں گے۔فرمایا:یہ تو میں بھی جانتا ہوں کہ تم یہ کام (بخوشی)کرلوگے مگر مجھے یہ پسند نہیں کہ تم لوگوں میں نمایاں رہوں اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّ بھی اس کو پسند نہیں فرماتا۔ (حکایت:67) (اتحاف السادۃ المتقین،۸/۲۱۰)ً
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(71)مردے کو تکلیف نہ دیجئے
	اُمُّ المومنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرضی اللّٰہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے کہ سرکارِمدینۂ منوّرہ، سردارِمکّۂ مکرّمہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا :اِنَّ الْمَیِّتَ یُؤْذِیْہِ فِیْ قَبْرِہٖ مَایُؤْذِیْہِ فِیْ بَیْتِہٖیعنی میّت کو جس بات سے گھر میں اِیذا ہوتی تھی قبر میں بھی اس سے اذیت پاتا ہے ۔(شرح الصدور،ص۲۹۷)
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جس طرح زندہ کے ہاتھوں زندہ تکلیف اُٹھاتا ہے اسی طرح مرُدے بھی زندوں کے ہاتھوں تکلیف اٹھاتے ہیں ، آئیے دیکھتے ہیں کہ ہم مُردوں کو تکلیف سے کس طرح بچا سکتےہیں؟