وہاں اس قسم کا کوئی آدمی تو نہیں ہے ورنہ اس عیب کا ذکر کرنے سے اس آدمی کو تکلیف اور اِیذاء پہنچے گی۔
(۱۴)دیواروں پر پان کھا کر نہ تھوکو کہ اس سے مکان والے کو بھی تکلیف ہوگی اور ہر دیکھنے والے کو بھی گِھن پیدا ہوگی۔
(۱۵)دو آدمی کسی معاملہ میں بات کرتے ہوں اور تم سے کچھ پوچھتے گچھتے نہ ہوں تو خواہ مخواہ تم ان کو کوئی رائے مشورہ نہ دو ایسا ہر گز نہیں کرنا چاہئے یہ تکلیف دینے والی بات ہے۔
بہر حال خلاصہ یہ ہے کہ تم اس کوشش میں لگے رہو کہ تمہارے کسی قول یا فعل یا طریقے سے کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے اور(نہ) تم خود بلا ضرورت خواہ مخواہ کسی تکلیف میں پڑو۔(جنتی زیور،ص۵۴۸)
اُمّتِ محبوب کا یاربّ بنا دے خیر خوا
نفس کی خاطِر کسی سے دل میں میرے ہونہ بَیر
(وسائلِ بخشش،ص۲۳۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(70)دورانِ سفر تکلیف نہ دیجئے
دورانِ سفر کسی ایک پر سارا بوجھ ڈال دینے کے بجائے کاموں کی آپس میں تقسیم ہونی چاہیے،ایک مرتبہ کسی سفر میں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَاننے بکری ذَبح