ان سے زیادہ بُری کوئی خَصلت نہیں(۱) اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا (۲)مسلمانوں کو تکلیف دینا۔ (اَلمُنَبِّہات،ص۳)
کروں یا خدا مومِنوں کی میں خدمت
نہ پہنچے کسی کو بھی مجھ سے اَذِیَّت
(حکایت:4)
عبادت کا طعنہ دینے کا انجام
بَحْرُ الْعُلُوْم حضرت علامہ مولانا مفتی عبدالمنّان علیہ رحمۃُ المنّان اپنے دادا مرحوم عبدالرحیم بن دوست محمد کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:دادا جان ایک بازار میں مزدوری کرتے تھے،ایک دفعہ اُجرت لینے کے لئے اس شخص کے پاس گئے جس کے یہاں مزدوری کرتے تھے تو اس کے لڑکے نے کہا:ابھی گزشتہ ہفتے تو خرچی لے کر گئے تھے،آج پھرچلے آئے،اتنی عبادت و ریاضت تو کرتے ہیں،اسی سے خوب ڈھیر سارا روپیہ کیوں نہیں مانگ لیتے!دادا جان نے ان کو کوئی جواب نہ دیا،فوراً گھر واپس لوٹ آئے اور دیر تک یہ فرماتے رہے:کیسے لوگ ہیں،یہ مسلمان کہے جائیں گے؟اللّٰہ کا نام لینے اور بندگی کرنے پر طعنہ دیتے ہیں۔بھلا ان لوگوں کو کیا احساس ہوتا،البتہ حضرت اس جملے پر نہایت دُکھی رہے اور آپ نے اس شخص کے لئے کام کرنا چھوڑ دیا۔بحر العلوم رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے مزید فرمایا: اللّٰہ تعالٰیکسی کی سرکشی پسند نہیں فرماتا،میرے زمانے تک وہ لوگ زندہ رہے،ساری اکڑفوں ختم ہوگئی تھی۔ ان میں ایک صاحب تو اس طرح مرے کہ مرتے دم انہیں کوئی ایک چمچہ پانی دینے