خود ان چیزوں کو راستوں میں ڈالنے والا بھی رات کے اندھیرے میں ٹھوکر کھا کر گرتا ہے اور چوٹ کھا جاتا ہے۔
(۴)کسی کے گھر جاؤ تو جہاں تک ہوسکے ہرگز ہرگز اس سے کسی چیز کی فرمائش نہ کرو بعض مرتبہ بہت ہی معمولی چیز بھی گھر میں موجود نہیں ہوتی اور وہ تمہاری فرمائش پوری نہیں کرسکتا ایسی صورت میں اس کو شرمندگی اور تکلیف ہوگی اور تم کو بھی اس سے کوفت اورتکلیف ہوگی کہ خواہ مخواہ میں نے اس سے ایک گھٹیا درجے کی چیز کی فرمائش کی اور زبان خالی گئی۔
(۵)ہڈی یا لوہے شیشے وغیرہ کے ٹکڑوں یا خار دار(کانٹے والی)شاخوں کو نہ خود راستوں میں ڈالو نہ کسی کو ڈالنے دو اور اگر کہیں راستوں میں ان چیزوں کو دیکھو تو ضرور راستوں سے ہٹا دو ورنہ راستہ چلنے والوں کو ان چیزوں کے چُبھ جانے سے تکلیف ہو گی اور ممکن ہے کہ غفلت میں تمہیں کو تکلیف پہنچ جائے اسی طرح کیلے اور خربوزہ وغیرہ کے چھلکوں کو راستوں پر نہ ڈالو ورنہ لوگ پھسل کر گریں گے۔
(۶)کھانا کھاتے وقت ایسی چیزوں کا نام مت لیا کرو جس سے سننے والوں کو گِھن پیدا ہو کیونکہ بعض نازُک مزاج لوگوں کو اس سے بہت تکلیف ہو جایا کرتی ہے۔
(۷)جب آدمی بیٹھے ہوئے ہوں تو جھاڑو مت دلواؤ کیونکہ اس سے لوگوں کو تکلیف ہوگی۔
(۸)تمہاری کوئی دعوت کرے تو جتنے آدمیوں کو تمہارے ساتھ اس نے بلایا