Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
166 - 220
منہ رکھ کر یوں بوسہ دو کہ آوازنہ پیدا ہو، تین بار ایسا ہی کرو یہ نصیب ہو تو کمالِ سعادت ہے۔ یقینا تمہارے محبوب و مولیٰ محمد رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلمنے اسے بوسہ دیا اور رُوئے اقدس اس پر رکھا۔ زہے خوش نصیبی کہ تمہارا منہ وہاں تک پہنچے اور ہجوم کے سبب نہ ہوسکے تو نہ اَوروں کو ایذا دو، نہ آپ دبو کُچلو بلکہ اس کے عِوَض ہاتھ سے چُھو کر اسے چوم لو اور ہاتھ نہ پہنچے تو لکڑی سے چُھو کر اسے چوم لو اور یہ بھی نہ ہوسکے تو ہاتھوں سے اُس کی طرف اِشارہ کرکے انھیں بوسہ دے لو، محمد رسولُ اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم کے منہ رکھنے کی جگہ پر نگاہیں پڑ رہی ہیں یہی کیا کم ہے اور حجر کو بوسہ دینے یا ہاتھ یا لکڑی سے چُھو کر چُوم لینے یا اِشارہ کرکے ہاتھوں کو بوسہ دینے کو اِستلام کہتے ہیں۔ (بہار شریعت ،۱/۱۰۹۶)
رَمَل میں بھی احتیاط 
	صَدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ  رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ مزیدلکھتے ہیں:پہلے تین پھیروں میں مرد رَمَل کرتا چلے یعنی جلد جلد چھوٹے قدم رکھتا، شانے ہلاتا جیسے قوی و بہادر لوگ چلتے ہیں، نہ کُودتا نہ دوڑتا، جہاں زیادہ ہجوم ہو جائے اور رَمَل میں اپنی یا دوسرے کی ایذا ہو تو اتنی دیر رَمَل ترک کرے۔
 (بہار شریعت ،۱/۱۰۹۷)
تکلیف دینے کی مختلف صورتیں
	 شیخ الحدیث والتفسیر حضر ت علامہ مولانا عبدالمصطفیٰ اعظمی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویتحریرفرماتے ہیں: حضور انورصلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّمنے فرمایا :اَلْمُسْلِمُ مَنْ