رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہکے قیمتی جبّے پرگرگئے ،خادم خوف سے کانپنے لگا (کہ نہ جانے اب کیاسزاملے گی ) لیکن آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہنے درگزکرتے ہوئے فرمایا: گھبراؤ نہیں ! پھر اشعار پڑھے :
إِذَا مَا الْمِسْکُ طَیَّبَ رِیْحَ قَوْمٍ کَفَانِیْ ذَاکَ رَائِحَۃُ الْمِدَادِ
فَمَا شَیْء ٌ بِأَحْسَنَ مِنْ ثِیَابٍ عَلَی حَافَاتِہَا حُمَمُ السَّوَادِ
ترجمہ :جب کستوری قوم کی خوشبو کو عمدہ کرے مجھے یہی سیاہی کی خوشبو کافی ہوگی،ان کپڑوں سے بڑھ کر کوئی چیز اچھی نہیں جن کے کناروں پر کوئلے کی سیاہی ہو۔ (سیر اعلام النبلاء ، اسماعیل بن بلبل ، ۱۰/ ۵۶۶ )
یہ میری ذمہ داری نہیں ہے(حکایت:66)
وَقْت بے وَقْت کسی کو ٹوکتے رہنے ،ڈانٹ پلادینے یا جھاڑنے کی عادت سے ممکن ہے کہ وہ ایسے وقت میں ہماری مدد سے انکار کردے جب ہم شدید پریشانی میں مدد کے طلب گار ہوں ۔ اس بات کو ایک فرضی حکایت سے سمجھنے کی کوشش کیجئے: چنانچِہ ایک نک چڑھا رئیس اپنے نوکروں کو وَقْت بے وَقْت ڈانٹتا جھاڑتا رہتا تھا جس کی وجہ سے نوکروں کے دل میں اس کی عداوت بیٹھ چکی تھی۔اس رئیس نے ہر نوکر کو اس کی ذمہ داریوں کی تحریری لسٹ(List) بنا کر دی ہوئی تھی اگر کوئی نوکر کبھی کوئی کام چھوڑ دیتا تو رئیس اُسے وہ لسٹ دِکھا دِکھا کر ذلیل کرتا ۔ایک مرتبہ وہ گھڑ سواری کا شوق پورا کرکے گھوڑے سے اُتر رہا تھا کہ اُس کا پاؤں رِکاب میں اُلجھ گیااسی دوران گھوڑا