خادمہ کی تکلیف کا خیال(حکایت:64)
فی زمانہ شرعاً کوئی غلام موجود نہیں لیکن اپنے پاس کام کرنے والے ملازمین اور خادمین کا خیال رکھنا بھی شیوۂ مسلمانی ہے چنانچہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ میں جب مفتیٔ اعظم ہند حضرت علامہ مولانا مصطفی رضا خانعَلَیْہ رَحمَۃُ اللّٰہ المنّان کی خدمت میں بریلی شریف حاضر ہوا تو آپ نے دارُالافتاء کی خدمت میرے سپرد فرمادی۔میں دن میں مسائل کا جواب لکھتا اور عشاء کے بعد آپ کو سنایا کرتااور جہاں مناسب معلوم ہوتا آپ اصلاح فرمایا کرتے تھے،یہ مجلس عموماً دو تین گھنٹے کی ہوتی جبکہ بسا اوقات چار گھنٹے کی بھی ہوجاتی تھی۔انہی اَیّام میں ایک دفعہ جبکہ سخت سردیوں کے دن تھے،کمرے میں حضرت کے لئے انگیٹھی تھی جو کچھ دیر کے بعد ٹھنڈی ہونے لگی اور حقے کی آگ بھی ختم ہونے پر آئی ۔اچانک آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا:اگر کوئلہ اور ہوتا تو انگیٹھی ہی گرم ہوجاتی اور تمباکو ابھی پورا جلا نہیں ہے،وہ بھی کام آجاتا۔میں نے عرض کی :اندر خادمہ کوآواز دے کر کوئلہ مانگ لوں۔فرمایا:دن بھر کی تھکی ہاری بے چاری سوگئی ہوگی،جانے دیجئے۔ (جہانِ مفتیٔ اعظم،ص۳۲۸)
خادم سے کپڑے پر سیاہی گرگئی(حکایت:65)
منقول ہے کہ ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا اسماعیل بن بُلبُل شَیْبانی قُدِّسَ سرُّہُ الرَّباّنی کے خادِم نے قلم سیاہی میں ڈبوکرآپ کو پیش کیاتوبے خیالی میں سیاہی کے چند قطرے آپ